میلے میں گر نظر نہ آتا روپ کسی متوالی کا

ممتاز گورمانی

میلے میں گر نظر نہ آتا روپ کسی متوالی کا

ممتاز گورمانی

MORE BY ممتاز گورمانی

    میلے میں گر نظر نہ آتا روپ کسی متوالی کا

    پھیکا پھیکا رہ جاتا تہوار بھی اس دیوالی کا

    مایوں بیٹھے روپ سروپ کے روگ سے واقف لگتی ہے

    آنچل بھیگا جاتا ہے اس دولہن کی شہبالی کا

    برتن برتن چیخ رہی تھی کون سمجھتا اس کی بات

    دل کا برتن خالی تھا اس برتن بیچنے والی کا

    گال کی جانب جھکتی ہے شرماتی ہے ہٹ جاتی ہے

    آج ارادہ ٹھیک نہیں ہے جان تمہاری بالی کا

    شہزادے تلوار تھما دے اب دربان کے ہاتھوں میں

    کہہ دے خالی ہاتھ نہ جائے اب کے بار سوالی کا

    پھر ممتازؔ کسی کی یادیں کونجیں بن کر لوٹیں گی

    موسم آنے والا ہے پھر زخموں کی ہریالی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY