میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر

محمد احمد رمز

میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر

محمد احمد رمز

MORE BYمحمد احمد رمز

    میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر

    تیرے کف نازک پہ رہے گا رنگ حنا بھی کتنی دیر

    اس کی نظر کی ہلکی سی جنبش کیا کیا جوہر رکھتی ہے

    لا سکتا ہے تاب تماشا آئینہ بھی کتنی دیر

    اب کے وصل کا موسم یوں ہی بے چینی میں بیت گیا

    اس کے ہونٹوں پر چاہت کا پھول کھلا بھی کتنی دیر

    کوئی تکلم کوئی اشارہ کوئی آہٹ پاس نہیں

    زندہ رہے ویرانۂ جاں میں دل کی صدا بھی کتنی دیر

    بکھرا دیں اطراف جنوں میں کیسی کیسی خوشبوئیں

    کوچۂ یار میں ٹھہری ہوگی باد صبا بھی کتنی دیر

    میرے دل میں گہرائی تک زخم ہیں اندھی خواہش کے

    اور ابھی ہونٹوں پہ رہے گا زہر دعا بھی کتنی دیر

    اپنی ایک ادا رکھتی ہے اس کے بعد کی گدازی بھی

    کچھ تو سوچو اس پہ چلے گا سحر قبا بھی کتنی دیر

    آگے دھند ہے بے سمتی کی پیچھے غبار گم شدگی

    میرے سر میں ساتھ رہے گی میری انا بھی کتنی دیر

    اس کے تغافل کا بھی بھرم رکھ اس سے اتنی چھیڑ نہ کر

    رمزؔ برستی ہے بے موسم کوئی گھٹا بھی کتنی دیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY