مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مل رہا

طارق نعیم

مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مل رہا

طارق نعیم

MORE BYطارق نعیم

    مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مل رہا

    ابھی اس سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا

    میں بنا رہا ہوں خیال و خواب کی بندشیں

    مری بندشوں کو رواج ہی نہیں مل رہا

    مجھے سلطنت تو ملی ہوئی ہے جمال کی

    کسی عشق کا کوئی تاج ہی نہیں مل رہا

    مجھے ملنے آئے گا شام کو مرا ہم سخن

    مرا آئینہ مجھے آج ہی نہیں مل رہا

    مرے چارہ گر کو پڑی ہوئی ہے علاج کی

    مجھے اس کا کوئی علاج ہی نہیں مل رہا

    ملے کارواں یہ بہت ہی دور کی بات ہے

    ابھی کارواں کا مزاج ہی نہیں مل رہا

    ابھی پھر رہا ہوں میں آپ اپنی تلاش میں

    ابھی مجھ سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا

    مأخذ :
    • کتاب : ruki huii shamon kii raahdaariyaz (Pg. 149)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے