مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

مہتاب حیدر نقوی

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

مہتاب حیدر نقوی

MORE BYمہتاب حیدر نقوی

    مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

    ان نظاروں کو کوئی دیکھے کہ حیرانی کرے

    دھوپ میں ان آبگینوں کو لیے پھرتا ہوں میں

    کوئی سایہ میرے خوابوں کی نگہبانی کرے

    ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں

    کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے

    رات ایسی چاہیئے مانگے جو دن بھر کا حساب

    خواب ایسا ہو جو ان آنکھوں میں ویرانی کرے

    ساحلوں پر میں کھڑا ہوں تشنہ کاموں کی طرح

    کوئی موج آب میری آنکھ کو پانی کرے

    RECITATIONS

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے مہتاب حیدر نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY