ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

فرید جاوید

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

    بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا

    جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں

    چھڑ رہی ہے دکھ کی بات نام ہے ترنم کا

    کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے

    موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا

    اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں

    کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم کا

    گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے

    ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

    حسرت و محبت سے دیکھتے رہو جاویدؔ

    ہاتھ آ نہیں سکتا حسن ماہ و انجم کا

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 09.10.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY