ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

منظر سلیم

ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

    اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا

    کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں

    اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا

    اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی

    پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا اچھا ہی ہوا

    دو چار گھڑی ہنس بول کے ہم برسوں خوں کے آنسو روتے

    دو چار گھڑی بھی بزم طرب میں جی نہ لگا اچھا ہی ہوا

    ان جادو کرنے والوں کے کچھ بھید سمجھ میں آ تو گئے

    دل پیار کے پیچھے پاگل تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

    دو گھونٹ سے اپنی تشنہ لبی کیا کم ہوتی کیوں کم ہوتی

    چھلکا ہوا ساغر ہاتھوں سے گر کر ٹوٹا اچھا ہی ہوا

    ہر وقت خزاں کے جھونکوں سے ڈرتے رہتے ہم بھی منظرؔ

    سینے میں کبھی ارمانوں کا غنچہ نہ کھلا اچھا ہی ہوا

    مآخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 98)
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (sahityaa parkaashak maalbaara delhi )
    • اشاعت : 196.3

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY