نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

احمد محفوظ

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

احمد محفوظ

MORE BYاحمد محفوظ

    نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

    میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا

    مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے

    میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا

    ابھی اک عذاب سے ہے سفر اک عذاب تک

    ابھی رنگ شام زوال میں نہیں آؤں گا

    وہی حالتیں وہی صورتیں ہیں نگاہ میں

    کسی اور صورت حال میں نہیں آؤں گا

    مجھے قید کرنے کی زحمتیں نہ اٹھائیے

    نہیں آؤں گا کسی جال میں نہیں آؤں گا

    میں خیال و خواب حصار سے بھی نکل چکا

    سو کسی کے خواب و خیال میں نہیں آؤں گا

    نہ ہو بدگماں مری داد خواہی ہجر سے

    مری جاں میں شوق وصال میں نہیں آؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY