نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں

منظور ہاشمی

نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    نئی زمیں نہ کوئی آسمان مانگتے ہیں

    بس ایک گوشۂ امن و امان مانگتے ہیں

    کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے

    درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں

    ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے

    پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں

    قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگ

    مرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں

    ہدف بھی مجھ کو بنانا ہے اور میرے حریف

    مجھی سے تیر مجھی سے کمان مانگتے ہیں

    نئی فضا کے پرندے ہیں کتنے متوالے

    کہ بال و پر سے بھی پہلے اڑان مانگتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY