نقش دل ہے ستم جدائی کا

عبد الغفور نساخ

نقش دل ہے ستم جدائی کا

عبد الغفور نساخ

MORE BYعبد الغفور نساخ

    نقش دل ہے ستم جدائی کا

    شوق پھر کس کو آشنائی کا

    چکھتے ہیں اب مزا جدائی کا

    یہ نتیجہ ہے آشنائی کا

    ان کے دل کی کدورت اور بڑھی

    ذکر کیجیے اگر صفائی کا

    دیکھ تو سنگ آستاں پہ ترے

    ہے نشاں کس کی جبہہ سائی کا

    تیرے در کا گدا جو ہے اے دوست

    عیش کرتا ہے بادشائی کا

    دختر رز نے کر دیا باطل

    مجھ کو دعویٰ تھا پارسائی کا

    کرتے ہیں اہل آسماں چرچا

    میرے نالوں کی نارسائی کا

    کاٹ ڈالو اگر زباں پہ مرے

    حرف آیا ہو آشنائی کا

    کر کے صدقے نہ چھوڑ دیں نساخؔ

    دل کو دھڑکا ہے کیوں رہائی کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    نقش دل ہے ستم جدائی کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY