نگاہ و دل میں وہی کربلا کا منظر تھا

سیدہ نفیس بانو شمع

نگاہ و دل میں وہی کربلا کا منظر تھا

سیدہ نفیس بانو شمع

MORE BYسیدہ نفیس بانو شمع

    نگاہ و دل میں وہی کربلا کا منظر تھا

    میں تشنہ لب تھی مرے سامنے سمندر تھا

    بہت غرور تھا بپھرے ہوئے سمندر کو

    مگر جو دیکھا مرے آنسوؤں سے کم تر تھا

    ہمارے حصے میں آئی ہے ریت ساحل کی

    کسی نے چھین لی وہ سیپ جس میں گوہر تھا

    بہت سکون تھا ٹھہرے ہوئے سمندر کو

    کہ اس میں جو بھی تھا طوفان میرے اندر تھا

    وہ شخص آیا تھا اے شمعؔ لے کے موسم گل

    اسے خبر ہی نہ تھی درد میرا زیور تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 514)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY