پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

عبد الحمید

پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

عبد الحمید

MORE BYعبد الحمید

    پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

    کوئی نشہ ہے تھکن کا کہ اترتا ہی نہیں

    دن گزرتے ہیں گزرتے ہی چلے جاتے ہیں

    ایک لمحہ جو کسی طرح گزرتا ہی نہیں

    بھاری دروازۂ آہن کہ نہیں کھل پاتا

    میرے سینے میں یہ سناٹا اترتا ہی نہیں

    دست جاں سے میں اٹھا لوں اسے پی لوں لیکن

    دل وہ زہراب پیالہ ہے کہ بھرتا ہی نہیں

    کیا لیے پھرتا ہوں میں آب سراب آنکھوں میں

    ڈوبتا ہی نہیں کوئی کہ ابھرتا ہی نہیں

    یہ پگھلتی ہی نہیں شمع کہ جلتی ہی نہیں

    یہ بکھرتا ہی نہیں دشت کہ مرتا ہی نہیں

    کچھ نہ کہیے تو بھلا یوں ہی سمجھتے رہیے

    پوچھ لیجے تو وہ عیبوں سے مکرتا ہی نہیں

    RECITATIONS

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں عبد الحمید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY