پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی

انور مسعود

پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی

انور مسعود

MORE BYانور مسعود

    پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی

    بجلی نے گھٹاؤں پہ جو تحریر لکھی تھی

    چپ سادھ کے بیٹھے تھے سبھی لوگ وہاں پر

    پردے پہ جو تصویر تھی کچھ بول رہی تھی

    لہراتے ہوئے آئے تھے وہ امن کا پرچم

    پرچم کو اٹھائے ہوئے نیزے کی انی تھی

    ڈوبے ہوئے تاروں پہ میں کیا اشک بہاتا

    چڑھتے ہوئے سورج سے مری آنکھ لڑی تھی

    اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

    اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

    شبنم کی تراوش سے بھی دکھتا تھا دل زار

    گھنگھور گھٹاؤں کو برسنے کی پڑی تھی

    پلکوں کے ستارے بھی اڑا لے گئی انورؔ

    وہ درد کی آندھی کہ سر شام چلی تھی

    مآخذ:

    • کتاب : ik daraicha ik chirag (Pg. 44)
    • Author : ANWAR MASOOD
    • مطبع : Dost Publications (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY