پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے

نشور واحدی

پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے

    معصوم ہے کیا جانے دامن کہیں جلتا ہے

    میری مژۂ غم پر لرزاں ہے حقیقت سی

    ان کے لب لعلیں پر افسانہ مچلتا ہے

    اچھی ہے رہے تھوڑی یہ جلوہ طرازی بھی

    رقص مہ و انجم میں دیوانہ بہلتا ہے

    عنوان ترقی ہے یہ تیرہ فضائی بھی

    کچھ گرد بھی اٹھتی ہے جب قافلہ چلتا ہے

    ہے شام ابھی کیا ہے بہکی ہوئی باتیں ہیں

    کچھ رات ڈھلے ساقی مے خانہ سنبھلتا ہے

    بس دیکھ چکی دنیا یہ بزم فروزی بھی

    رکھا ہے چراغ ایسا بجھتا ہے نہ جلتا ہے

    اک سحر شبستاں ہے یہ فن جہاں رانی

    دنیا ہے کہ سوتی ہے جادو ہے کہ چلتا ہے

    افلاس کے آنسو سے طوفاں بھی لرزتے ہیں

    شعلوں کا جگر گویا شبنم سے دہلتا ہے

    مطرب بہ لب لعلیں ساقی بہ مے و مینا

    اس گرمئ محفل میں ایمان پگھلتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Sawad-e-manzil (Pg. 159)
    • Author : Nushoor Wahedi
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd, Delhi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY