پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

ذوالفقار عادل

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

    نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم

    دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس

    اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم

    اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا

    لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم

    پلکیں جھپک جھپک کے اڑاتے ہیں نیند کو

    سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر رہے ہیں ہم

    کب سے کھڑے ہوئے ہیں کسی گھر کے سامنے

    کب سے اک اور گھر کا پتا کر رہے ہیں ہم

    اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا

    تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم

    ہاتھوں کے ارتعاش میں باد مراد ہے

    چلتی ہیں کشتیاں کہ دعا کر رہے ہیں ہم

    واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

    منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

    عادلؔ سجے ہوئے ہیں سبھی خواب خوان پر

    اور انتظار خلق خدا کر رہے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY