پھر بپا شہر میں افراتفری کر جائے

آفتاب اقبال شمیم

پھر بپا شہر میں افراتفری کر جائے

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    پھر بپا شہر میں افراتفری کر جائے

    کوئی یہ سوکھی ہوئی ڈار ہری کر جائے

    جب بھی اقرار کی کچھ روشنیاں جمع کروں

    میری تردید مری بے بصری کر جائے

    معدن شب سے نکالے زر خوشبو آ کر

    آئے یہ معجزہ باد سحری کر جائے

    کثرتیں آئیں نظر ذات کی یکتائی میں

    یہ تماشا کبھی آشفتہ سری کر جائے

    لمحہ منصف بھی ہے مجرم بھی ہے مجبوری کا

    فائدہ شک کا مجھے دے کے بری کر جائے

    اس کا معیار ہی کیا روز بدل جاتا ہے

    چھوڑیئے! وہ جو اگر ناقدری کر جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 298)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY