پھر اس سے قبل کہ بار دگر بنایا جائے

طارق نعیم

پھر اس سے قبل کہ بار دگر بنایا جائے

طارق نعیم

MORE BYطارق نعیم

    پھر اس سے قبل کہ بار دگر بنایا جائے

    یہ آئینہ ہے اسے دیکھ کر بنایا جائے

    میں سوچتا ہوں ترے لا مکاں کے اس جانب

    مکان کیسا بنے گا اگر بنایا جائے

    ذرا ذرا سے کئی نقص ہیں ابھی مجھ میں

    نئے سرے سے مجھے گوندھ کر بنایا جائے

    زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں

    دل خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے

    بہت سے لفظ پڑے حاشیوں میں سوچتے ہیں

    کسی طرح سے عبارت میں در بنایا جائے

    وہ جا رہا ہے تو جاتے ہوئے کو روکنا کیا

    ذرا سی بات کو کیوں درد سر بنایا جائے

    کہیں رکیں گے تو طارق نعیمؔ دیکھیں گے

    سفر میں کیا کوئی زاد سفر بنایا جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 26.08.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے