راستے جس طرف بلاتے ہیں

انعام ندیمؔ

راستے جس طرف بلاتے ہیں

انعام ندیمؔ

MORE BY انعام ندیمؔ

    راستے جس طرف بلاتے ہیں

    ہم اسی سمت چلتے جاتے ہیں

    روز جاتے ہیں اپنے خوابوں تک

    روز چپ چاپ لوٹ آتے ہیں

    اڑتے پھرتے ہیں جو خس و خاشاک

    یہ کوئی داستاں سناتے ہیں

    یہ محبت بھی ایک نیکی ہے

    اس کو دریا میں ڈال آتے ہیں

    یاد کے اس کھنڈر میں اکثر ہم

    اپنے دل کا سراغ پاتے ہیں

    شام سے جل رہے ہیں بے مصرف

    ان چراغوں کو اب بجھاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY