ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

ادریس بابر

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

ادریس بابر

MORE BYادریس بابر

    ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

    ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے

    حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں

    آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے

    ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت

    پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے

    سوچ لو میں بھی ہوا چپ تو گراں گزرے گا

    یہ اندھیرا جو مرے شور و شرر سے کم ہے

    وہ بجھا جائے تو یہ دل کو جلا دے پھر سے

    شام ہی کون سی راحت میں سحر سے کم ہے

    خاک اتنی نہ اڑائیں تو ہمیں بھی بابرؔ

    دشت اچھا ہے کہ ویرانی میں گھر سے کم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY