سب تمناؤں سے خوابوں سے نکل آئے ہیں

اقبال اشہر قریشی

سب تمناؤں سے خوابوں سے نکل آئے ہیں

اقبال اشہر قریشی

MORE BYاقبال اشہر قریشی

    سب تمناؤں سے خوابوں سے نکل آئے ہیں

    ہم بہت دور سرابوں سے نکل آئے ہیں

    خود کو جب بھول سے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے

    زندگی تیرے عذابوں سے نکل آئے ہیں

    روشنی مجھ کو ملی ہے تو ذرا جانچ تو لوں

    آج سب چہرے نقابوں سے نکل آئے ہیں

    ہم نکل آئے بہشت شب تنہائی سے

    اور کچھ لوگ حجابوں سے نکل آئے ہیں

    ہم بھی اس شہر کی ویران سی رونق میں کہاں

    اپنے مانوس خرابوں سے نکل آئے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Be Sada Fariyad (Pg. 81)
    • Author : Iqbal Ashhar Qureshi
    • مطبع : Sarvottam Marketing in Corporation Vivekanand Nagar Kamti, Mumbai (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY