صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

سحر انصاری

صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

    حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں

    ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا

    پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں

    ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا

    نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں

    ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در اچھے

    مسافر کب ہوا گھر سے روانہ یاد رکھتے ہیں

    دعائے موسم گل ان کو راس آ ہی نہیں سکتی

    جو شاخ گل کے بدلے تازیانہ یاد رکھتے ہیں

    ہماری سمت اک موج طرب آئی تو یاد آیا

    کہ کچھ موسم ہمیں بھی غائبانہ یاد رکھتے ہیں

    غرور ان کو اگر رہتا ہے اپنی کامیابی کا

    سحرؔ ہم بھی شکست فاتحانہ یاد رکھتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سحر انصاری

    سحر انصاری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY