شام کے آثار گیلے ہیں بہت

سعید قیس

شام کے آثار گیلے ہیں بہت

سعید قیس

MORE BYسعید قیس

    شام کے آثار گیلے ہیں بہت

    پھر مری آنکھوں میں تیلے ہیں بہت

    تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں

    اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت

    کشت جاں کو خشک سالی کھا گئی

    موسموں کے رنگ پیلے ہیں بہت

    برف پگھلی ہے فراز عرش سے

    آسماں کے رنگ نیلے ہیں بہت

    بیل کی صورت ہیں ہم پھیلے ہوئے

    ہم فقیروں کے وسیلے ہیں بہت

    میں بھی اپنی ذات میں آباد ہوں

    میرے اندر بھی قبیلے ہیں بہت

    لوگ بستی کے بھی ہیں شیریں صفت

    میرے نغمے بھی رسیلے ہیں بہت

    قیسؔ ہم جوگی ہیں اپنے شہر کے

    ناگ تو ہم نے بھی کیلے ہیں بہت

    مأخذ :
    • کتاب : Aks Padta Hai Chaand ka (Pg. 66)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے