شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

یعقوب یاور

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

یعقوب یاور

MORE BYیعقوب یاور

    شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

    ناقد یہاں ادیب ہو گیا ہے

    جھوٹ ان دنوں اداس ہے کہ سچ بھی

    پروردۂ صلیب ہو گیا ہے

    گرمی سے پھر بدن پگھل رہے ہیں

    شاید کوئی قریب ہو گیا ہے

    آبادیوں میں ڈوب کر مرا دل

    جنگل سے بھی مہیب ہو گیا ہے

    کیا کیا گلے نہیں اسے وطن سے

    یاورؔ کہاں غریب ہو گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY