شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی

عبد السلام

شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی

عبد السلام

MORE BYعبد السلام

    شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی

    جس سے آمد تھی وہ صورت نہ رہی

    اس کی دہلیز سے اٹھ جاؤں مگر

    لوگ سوچیں گے محبت نہ رہی

    اب ملا عدل، گیا دور شباب

    منصفی تیری بھی وقعت نہ رہی

    وقت کی دوڑ میں رکنا تھا کٹھن

    سانس لینے کی بھی فرصت نہ رہی

    وقت دیدار عجب حکم ہوا

    ہوش کھونے کی اجازت نہ رہی

    تم سے جذبات تھے جب تم ہی نہیں

    پھر زمانے سے شکایت نہ رہی

    میں نکل آؤں بیاباں سے اگر

    شہرہ ہو جائے گا وحشت نہ رہی

    بھیڑ میں ڈھونڈیں کہاں قیس کو اب

    وہ جو پہچان تھی وحشت نہ رہی

    دور رفتہ کے نمونے ہو سلامؔ

    اب تکلف کی ضرورت نہ رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY