شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے

انیس احمد انیس

شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے

انیس احمد انیس

MORE BYانیس احمد انیس

    شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے

    بے مانگے جو ملے وہی کافی ہے ہاں مجھے

    اے شوخئ نگاہ ذرا احتیاط رکھ

    اس بزم میں ہے پاس حدیث بتاں مجھے

    یا رب مرے گناہ کیا اور احتساب کیا

    کچھ دی نہیں ہے خضر سی عمر رواں مجھے

    چنتا تھا راہ زیست کے خاروں کو میں ہنوز

    ہے سب عبث اجل نے کہا ناگہاں مجھے

    لگتا ہے اک ہجوم میں گم ہے مرا وجود

    ڈستی ہیں پھر بھی کس لئے تنہائیاں مجھے

    ان کے لئے ہیں اطلس و کمخواب کے سریر

    تن ڈھانکنے کو کافی ہیں کچھ دھجیاں مجھے

    کیا کیا ستم زمانے کے میں سہہ گیا انیسؔ

    مرنے کے بعد یاد کرو گے میاں مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 70)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY