شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچے

جگدیش سہائے سکسینہ

شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچے

جگدیش سہائے سکسینہ

MORE BYجگدیش سہائے سکسینہ

    شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچے

    آسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچے

    ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق

    پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے

    جام و مینا کی قسم ہستئ صہبا کی قسم

    بادہ کش ایک ہی لغزش میں یقیں تک پہنچے

    ایسی تقدیر کہاں ہے کہ نسیم کوئے دوست

    بھول کر راہ کسی خاک نشیں تک پہنچے

    کر چکا روئے زمیں کا جو بشر کام تمام

    یہ تمنا ہے کہ اب چرخ بریں تک پہنچے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY