صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

فریاد آزر

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

فریاد آزر

MORE BY فریاد آزر

    صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

    یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے

    اب تو ہر شہر ہے اک شہر طلسمی کہ جہاں

    جو بھی جاتا ہے وہ پتھر میں بدل جاتا ہے

    ایک لمحہ بھی ٹھہرتا نہیں لمحہ کوئی

    پیش منظر پس منظر میں بدل جاتا ہے

    نقش ابھرتا ہے امیدوں کا فلک پر کوئی

    اور پھر دھند کی چادر میں بدل جاتا ہے

    بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی

    اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

    اپنے مفہوم پہ پڑتی نظر جب اس کی

    لفظ اچانک بت ششدر میں بدل جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY