سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

عبید اللہ علیم

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

    یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

    کھلا کہ عشق نہیں ہے کچھ اور اس کے سوا

    رضائے یار جو ہو اپنا حال کر رکھنا

    اسی کا کام ہے فرش زمیں بچھا دینا

    اسی کا کام ستارے اچھال کر رکھنا

    اسی کا کام ہے اس دکھ بھرے زمانے میں

    محبتوں سے مجھے مالا مال کر رکھنا

    بس ایک کیفیت دل میں بولتے رہنا

    بس ایک نشے میں خود کو نہال کر رکھنا

    بس ایک قامت زیبا کے خواب میں رہنا

    بسا ایک شخص کو حد مثال کر رکھنا

    گزرنا حسن کی نظارگی سے پل بھر کو

    پھر اس کو ذائقۂ لا زوال کر رکھنا

    کسی کے بس میں نہیں تھا کسی کے بس میں نہیں

    بلندیوں کو سدا پائمال کر رکھنا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    مآخذ
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 83)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY