سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

مجروح سلطانپوری

سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں

    اہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیں

    آ گئی فصل جنوں کچھ تو کرو دیوانو

    ابر صحرا کی طرف سایہ فگن جاتے ہیں

    اس کو دیکھا نہیں تم نے کہ یہی کوچہ و راہ

    شاخ گل شوخئ رفتار سے بن جاتے ہیں

    وہ اگر بات نہ پوچھے تو کریں کیا ہم بھی

    آپ ہی روٹھتے ہیں آپ ہی من جاتے ہیں

    بلبلو اپنی نوا فیض ہے ان آنکھوں کا

    جن سے ہم سیکھنے انداز سخن جاتے ہیں

    جو ٹھہرتی تو ذرا چلتے صبا کے ہم راہ

    یوں بھی ہم روز کہاں سوئے چمن جاتے ہیں

    لٹ گیا قافلۂ اہل جنوں بھی شاید

    لوگ ہاتھوں میں لیے تار رسن جاتے ہیں

    روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔ

    ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

    RECITATIONS

    شکیل جمالی

    شکیل جمالی

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    شکیل جمالی

    سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیں شکیل جمالی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY