تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا

نوین سی چترویدی

تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا

نوین سی چترویدی

MORE BYنوین سی چترویدی

    تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا

    ہمارا دل بھی کبھی آسمان جیسا تھا

    عجیب لگتی ہے محنت کشوں کی بد حالی

    یہاں تلک تو مقدر کو ہار جانا تھا

    نئے سفر کا ہر اک موڑ بھی نیا تھا مگر

    ہر ایک موڑ پہ کوئی صدائیں دیتا تھا

    بغیر پوچھے مرے سر میں بھر دیا مذہب

    میں روکتا بھی تو کیسے کہ میں تو بچہ تھا

    کوئی بھی شکل ابھرنا محال تھا یارو

    ہمارے سایہ کے اوپر شجر کا سایہ تھا

    تمام عمر خود اپنے پہ ظلم ڈھاتے رہے

    محبتوں کا اثر تھا کہ کوئی نشہ تھا

    بڑا سکون ملا اس سے بات کر کے ہمیں

    وہ شخص جیسے کسی جھیل کا کنارہ تھا

    بس ایک وار میں دنیا نے کر دیے ٹکڑے

    مری طرح سے مرا عشق بھی نہتا تھا

    علاوہ اس کے مجھے اور کچھ ملال نہیں

    وہ مان جائے گا اس بات کا بھروسہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY