تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا

کفیل آزر امروہوی

تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا

کفیل آزر امروہوی

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھا

    آنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہوا

    سینے میں جیسے تیر سا پیوست ہو گیا

    تھا کتنا دل خراش اداسی کا قہقہہ

    یوں بھی ہوا کہ شہر کی سڑکوں پہ بارہا

    ہر شخص سے میں اپنا پتہ پوچھتا پھرا

    برسوں سے چل رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ

    ہے کون شخص اس سے میں اک بار پوچھتا

    دل میں اتر کے بجھ گئی یادوں کی چاندنی

    آنکھوں میں انتظار کا سورج پگھل گیا

    چھوڑی ہے ان کی چاہ تو اب لگ رہا ہے یوں

    جیسے میں اتنے روز اندھیروں میں قید تھا

    میں نے ذرا سی بات کہی تھی مذاق میں

    تم نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھا لیا

    کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں

    میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

    آزرؔ یہ کس کی سمت بڑھے جا رہے ہیں لوگ

    اس شہر میں تو میرے سوا کوئی بھی نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY