تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں

عامر امیر

تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں

عامر امیر

MORE BYعامر امیر

    تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں

    گویا کہ حسن وادیٔ کیلاش جیب میں

    رستے میں مجھ کو مل گیا یوں ہی گرا پڑا

    میں نے اٹھا کے رکھ لیا آکاش جیب میں

    پندرہ منٹ سے ڈھونڈ رہا ہے نہ جانے کیا

    ڈالے ہوئے ہے ہاتھ کو قلاش جیب میں

    آ جا کہ یار پان کے کھوکھے پہ جمع ہیں

    سگریٹ چھپا کے ہاتھ میں اور تاش جیب

    سب ٹینٹ اور کرسیوں والے کما گئے

    شاعر نے ٹھونس کر بھری شاباش جیب میں

    اب اس غریب چور کو بھیجو گے جیل کیوں

    غربت کی جس نے کاٹ لی پاداش جیب میں

    رکھتا نہیں ہوں پاس میں اپنی کبھی شناخت

    پھرتا ہے کون لے کے کبھی لاش جیب میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عامر امیر

    عامر امیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY