تھکے ہوؤں کو جو منزل کٹھن زیادہ ہوئی

نسیم سحر

تھکے ہوؤں کو جو منزل کٹھن زیادہ ہوئی

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    تھکے ہوؤں کو جو منزل کٹھن زیادہ ہوئی

    سفر کا عزم مصمم لگن زیادہ ہوئی

    اداس پیڑوں نے پتوں کی بھینٹ دے دی ہے

    خزاں میں رونق صحن چمن زیادہ ہوئی

    زباں پہ حبس کی خواہش مچل مچل اٹھی

    ہوا چلی تو گھروں میں گھٹن زیادہ ہوئی

    سفر کا مرحلۂ سخت ہی غنیمت تھا

    ٹھہر گئے تو بدن کی تھکن زیادہ ہوئی

    کبھی تو سرد لگا دوپہر کا سورج بھی

    کبھی بدن کے لیے اک کرن زیادہ ہوئی

    عروس زیست پہ یوں بھی نکھار کیا کم تھا

    لہو لباس کیا تو پھبن زیادہ ہوئی

    طلب کے ہونٹوں پہ آسودگی کا لفظ کہاں؟

    طلب وسیلۂ دار و رسن زیادہ ہوئی

    نسیمؔ کس کو تھا تہذیب فن کا دھیان یہاں

    ہمارے عہد میں تشہیر فن زیادہ ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے