تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے

محمد احمد رمز

تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے

محمد احمد رمز

MORE BYمحمد احمد رمز

    تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے

    یہ بچھڑنا ہے بڑی سخت سزا اس کے لیے

    اب کوئی سلسلۂ ترک و طلب ہی نہ رہا

    آنکھ میں ایک بھی منظر نہ رکا اس کے لیے

    اس کے خوابوں کو نہ دے موسم تعبیر مرا

    کوئی پیغام نہ لے جائے صبا اس کے لیے

    حرف کو لفظ نہ کر لفظ کو اظہار نہ دے

    کوئی تصویر مکمل نہ بنا اس کے لیے

    میں اسے بھول بھی جاؤں مگر اے بے خبری

    میری چپ اس کے لیے میری نوا اس کے لیے

    رمزؔ دے جائے تو کیا رنگ کوئی میرا لہو

    رمزؔ پس جائے تو کیا برگ حنا اس کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY