تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا

علی احمد جلیلی

تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا

علی احمد جلیلی

MORE BYعلی احمد جلیلی

    تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا

    لو کا جھونکا بھی چلے گا تو صبا ہو جائے گا

    زندگی میں قتل کر کے تجھ کو نکلا تھا مگر

    کیا خبر تھی پھر ترا ہی سامنا ہو جائے گا

    نفرتوں نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ہمیں

    جب یہ دیواریں گریں گی راستہ ہو جائے گا

    آندھیوں کا کام چلنا ہے غرض اس سے نہیں

    پیڑ پر پتا رہے گا یا جدا ہو جائے گا

    کیا خبر تھی اے امیر شہر تیرے دور میں

    سانس لینا جرم جینا حادثہ ہو جائے گا

    آپ پیدا تو کریں دست ہنر پھر دیکھیے

    آپ کے ہاتھوں میں پتھر آئینہ ہو جائے گا

    میرے ہونٹوں پہ ہنسی آ کر رہے گی اے علیؔ

    ایک دن یہ واقعہ بھی دیکھنا ہو جائے گا

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 269)
    • Author : arooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY