تم نے لکھا ہے لکھو کیسا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی

تم نے لکھا ہے لکھو کیسا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    تم نے لکھا ہے لکھو کیسا ہوں میں

    دوستوں کی بھیڑ ہے تنہا ہوں میں

    یاسمین و نسترن میرا پتہ

    خوشبوؤں کے جسم پر لکھا ہوں میں

    پہلے ہی کیا کم تماشے تھے یہاں

    پھر نئے منظر اٹھا لایا ہوں میں

    پھر وہی موسم پرانے ہو گئے

    دن ڈھلے سرگوشیاں سنتا ہوں میں

    کون اترتی چڑھتی سانسوں کا امیں

    سایۂ دیوار سے لپٹا ہوں میں

    تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر

    راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں

    وہ مری خوش فہمیاں سب کیا ہوئیں

    جانے کب سے بے ہنر زندہ ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY