تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے

قابل اجمیری

تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے

قابل اجمیری

MORE BYقابل اجمیری

    تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے

    جگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائے

    اجل بھی اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتی

    وہ زندگی جسے احساس زندگی ہو جائے

    یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت

    نگاہ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے

    زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے

    خدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ہو جائے

    سیاہ خانۂ دل میں ہے ظلمتوں کا ہجوم

    چراغ شوق جلاؤ کہ روشنی ہو جائے

    طلوع صبح پہ ہوتی ہے اور بھی نمناک

    وہ آنکھ جس کی ستاروں سے دوستی ہو جائے

    اجل کی گود میں قابلؔ ہوئی ہے عمر تمام

    عجب نہیں جو مری موت زندگی ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY