ان سے امید رو نمائی ہے

شکیل بدایونی

ان سے امید رو نمائی ہے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    ان سے امید رو نمائی ہے

    کیا نگاہوں کی موت آئی ہے

    حسن مصروف خود نمائی ہے

    عشق کا دور ابتدائی ہے

    دل نے غم سے شکست کھائی ہے

    عمر رفتہ تری دہائی ہے

    دل کی بربادیوں پہ نازاں ہوں

    فتح پا کر شکست کھائی ہے

    میرے معبد نہیں ہیں دیر و حرم

    احتیاطاً جبیں جھکائی ہے

    وہ ہوا دے رہے ہیں دامن کی

    ہائے کس وقت نیند آئی ہے

    کھل گیا ان کی آرزو میں یہ راز

    زیست اپنی نہیں پرائی ہے

    شمع پروانہ ہوں کہ غنچہ و گل

    زندگی کس کو راس آئی ہے

    گل فسردہ چمن اداس شکیلؔ

    یوں بھی اکثر بہار آئی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ان سے امید رو نمائی ہے نعمان شوق

    مآخذ :
    • Shabistan

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY