اس کے ہونٹوں پر سر مہکا کرتے ہیں

سوپنل تیواری

اس کے ہونٹوں پر سر مہکا کرتے ہیں

سوپنل تیواری

MORE BYسوپنل تیواری

    اس کے ہونٹوں پر سر مہکا کرتے ہیں

    ہم اب خوشبو سے تر سویا کرتے ہیں

    روشن رہتے ہیں غم سطح پہ اشکوں کی

    یہ پتھر پانی پر تیرا کرتے ہیں

    دن بھر میں ان کی نگرانی کرتا ہوں

    شب بھر میرے سپنے جاگا کرتے ہیں

    آنکھیں دھوتے ہیں سونے کے پانی سے

    جاگتے ہی جو تم کو دیکھا کرتے ہیں

    وہ جو جھونکے جیسا آتا جاتا ہے

    ہم جو ہوا کو چھو کر بکھرا کرتے ہیں

    پندرہ دن کا ہو کر مرنے لگتا ہے

    کیوں ہم چاند کو پالا پوسا کرتے ہیں

    ہم کو آنسو ہی ملتے ہیں سیپ میں بھی

    وہ اشکوں میں موتی رویا کرتے ہیں

    بوسہ لینے میں کیوں کٹ جاتے ہیں ہونٹ

    ہم مانجھے دانتوں سے کاٹا کرتے ہیں

    اکثر سانسیں روک کے سنتا رہتا ہوں

    اس کے لمس بدن پر دھڑکا کرتے ہیں

    نیند کھلے تو اس کو پہلو میں پائیں

    ہم بھی کیسے سپنے دیکھا کرتے ہیں

    سارا غصہ اب بس اس کام آتا ہے

    ہم اس سے سگریٹ سلگایا کرتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Chand Dinner per Baitha Hai (Pg. 14)
    • Author : Swapnil Tiwari
    • مطبع : Anybook, Gurgaon (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY