اس نے کیا ہے وعدۂ فردا آنے دو اس کو آئے تو

برقی اعظمی

اس نے کیا ہے وعدۂ فردا آنے دو اس کو آئے تو

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    اس نے کیا ہے وعدۂ فردا آنے دو اس کو آئے تو

    نام بدل دینا پھر میرا لوٹ کے واپس جائے تو

    عرض تمنا کریں گے اس سے اگر نہ وہ ٹھکرائے تو

    اس سے ضرور ملیں گے جا کر پہلے ہمیں بلائے تو

    عزت نفس کا ہے یہ تقاضا حسن سلوک کریں دونوں

    اس کو ہم لبیک کہیں گے رسم وفا نبھائے تو

    صفحۂ ذہن پہ نقش ہے اس کا میرے ابھی تک ناز و نیاز

    جیسے شرماتا تھا پہلے ویسے ہی شرمائے تو

    روٹھنے اور منانے کے احساس میں ہے اک کیف و سرور

    میں نے ہمیشہ اسے منایا وہ بھی مجھے منائے تو

    کیوں رہتا ہے مجھ سے بد ظن ہے جو مرا منظور نظر

    کچھ نہیں آتا میری سمجھ میں کوئی مجھے سمجھائے تو

    خون جگر سے سینچوں گا گل زار تمنا اس کے لئے

    باغ حیات میں گل محبت آ کر مرے کھلائے تو

    فصل خزاں میں کیا ہوگا آثار نمایاں ہیں جس کے

    فصل بہار میں برقیؔ اپنے دل کی کلی مرجھائے تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY