اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے

محمد اعظم

اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے

محمد اعظم

MORE BY محمد اعظم

    اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے

    وصل کو ہجر سے کیا چیز جدا کرتی ہے

    وہ نہ مانے گا پہ ہر شب کوئی موہوم سی آس

    اک دیا بن کے در دل پہ جلا کرتی ہے

    اوج اوسان پہ چڑھ چڑھ کے محبت کی شراب

    جب اترتی ہے تو کچھ اور نشہ کرتی ہے

    تجھ میں کیا بات ہے اے دل کہ وفا کیش یہ عقل

    میری باندی ہے مگر کام ترا کرتی ہے

    ناگہاں پنجۂ قاتل سے میں کیا چھوٹ گیا

    اس کی حسرت مرے جینے کی دعا کرتی ہے

    آسمانوں میں اڑا کرتے ہیں پھولے پھولے

    ہلکے لوگوں کے بڑے کام ہوا کرتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY