وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

شکیب جلالی

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

    میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

    کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا ہی نہیں

    اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت

    نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب

    کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت

    ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ

    مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت

    یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ

    میں اپنے دشت سے گزرا تو بھید پائے بہت

    جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا

    تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت

    بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے

    مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت

    جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر

    کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت

    شکیبؔ کیسی اڑان اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے

    کہ زیر دام جب آئے تھے پھڑپھڑائے بہت

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY