وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے

عادل رضا منصوری

وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے

عادل رضا منصوری

MORE BY عادل رضا منصوری

    وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے

    ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے

    مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے

    کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے

    پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں

    یہ کیسا خوف خیمہ زن ہوا ہے

    مری خاموشیوں کی جھیل میں پھر

    کسی آواز کا پتھر گرا ہے

    محبت کا مقدر دیکھتے ہو

    ہوا نے کچھ تو پانی پر لکھا ہے

    اسی پر کھل رہے ہیں سارے موسم

    جو اپنے گھر سے باہر آ گیا ہے

    چراغو اب ذرا اپنی سناؤ

    ہوا کا کام پورا ہو چکا ہے

    محبت پھر وہیں لے آئی عادلؔ

    یہ جنگل بارہا دیکھا ہوا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Sarsabz (Pg. 67)
    • Author : Krishan Kumar Toor
    • مطبع : Sarsabz Dharamshala (April to September 2013)
    • اشاعت : April to September 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY