وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے

عبید اللہ علیم

وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے

    ایک دنیا ہے اکیلی تو ہی تنہا کیا ہے

    داد دے ظرف سماعت تو کرم ہے ورنہ

    تشنگی ہے مری آواز کی نغمہ کیا ہے

    بولتا ہے کوئی ہر آن لہو میں میرے

    پر دکھائی نہیں دیتا یہ تماشا کیا ہے

    جس تمنا میں گزرتی ہے جوانی میری

    میں نے اب تک نہیں جانا وہ تمنا کیا ہے

    یہ مری روح کا احساس ہے آنکھیں کیا ہیں

    یہ مری ذات کا آئینہ ہے چہرہ کیا ہے

    کاش دیکھو کبھی ٹوٹے ہوئے آئینوں کو

    دل شکستہ ہو تو پھر اپنا پرایا کیا ہے

    زندگی کی اے کڑی دھوپ بچا لے مجھ کو

    پیچھے پیچھے یہ مرے موت کا سایہ کیا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    مآخذ :
    • کتاب : Chand Chehra Sitara Aankhen (Pg. 125)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY