وجود غیب کا عرفان ٹوٹ جاتا ہے

مظفر حنفی

وجود غیب کا عرفان ٹوٹ جاتا ہے

مظفر حنفی

MORE BY مظفر حنفی

    وجود غیب کا عرفان ٹوٹ جاتا ہے

    صریر خامہ سے وجدان ٹوٹ جاتا ہے

    جو ہو سکے تو کرو عام لاابالی پن

    خودی کے بوجھ سے انسان ٹوٹ جاتا ہے

    سنائیے وہ لطیفہ ہر ایک جام کے ساتھ

    کہ ایک بوند سے ایمان ٹوٹ جاتا ہے

    سجانے لگتا ہوں جب کچھ حسین یادوں کے پھول

    مرے خیال کا گلدان ٹوٹ جاتا ہے

    تو لازمی بھی نہیں تولنا سمندر کا

    اگر حباب کا میزان ٹوٹ جاتا ہے

    ہوا جہاں بھی ترے وحشیوں کا دامن چاک

    وہیں بہار کا احسان ٹوٹ جاتا ہے

    یہ دور وہ ہے مظفرؔ گناہ زید کرے

    بکر کی ذات پہ بہتان ٹوٹ جاتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : kamaan (Pg. 233)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY