وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

سحر انصاری

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

    وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں

    دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز

    محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں

    لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے

    ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

    غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا

    وہ جرأتیں بھی گئیں وہ جسارتیں بھی گئیں

    نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل

    ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

    دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار

    سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

    ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن

    خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں

    ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ

    وہ قامتیں بھی گئیں وہ قیامتیں بھی گئیں

    بھلا دیے غم دنیا نے عشق کے آداب

    کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں

    کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں

    ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں

    نہ چاند میں ہے وہ چہرہ نہ سرو میں ہے وہ جسم

    گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں

    گیا وہ دور غم انتظار یار سحرؔ

    اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سحر انصاری

    سحر انصاری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY