وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

کشور ناہید

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

    دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا

    ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی

    کچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا

    دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگ

    نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا

    ڈھونڈا اسے بہت کہ بلایا تھا جس نے پاس

    جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا

    کچھ اس قدر تھی گرمئ بازار آرزو

    دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا

    کیسے کریں گے ذکر حبیب جفا پسند

    جب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا

    کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہیدؔ آج تھی

    کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat dusht-e-qais main laila (Pg. 80)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY