وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

اقبال ساجد

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

    کردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

    چڑھتے ہی دھوپ شہر کے کھل جائیں گے کواڑ

    جسموں کا رہ گزار روانی میں آئے گا

    آئینہ ہاتھ میں ہے تو سورج پہ عکس ڈال

    کچھ لطف بھی سراغ رسائی میں آئے گا

    رخت سفر بھی ہوگا مرے ساتھ شہر میں

    صحرا بھی شوق نقل مکانی میں آئے گا

    پھر آئے گا وہ مجھ سے بچھڑنے کے واسطے

    بچپن کا دور پھر سے جوانی میں آئے گا

    کب تک لہو کے حبس سے گرمائے گا بدن

    کب تک ابال آگ سے پانی میں آئے گا

    صورت تو بھول بیٹھا ہوں آواز یاد ہے

    اک عمر اور ذہن گرانی میں آئے گا

    ساجدؔ تو اپنے نام کا کتبہ اٹھائے پھر

    یہ لفظ کب لباس معانی میں آئے گا

    مآخذ:

    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 139)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY