وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں

اختر ضیائی

وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں

اختر ضیائی

MORE BYاختر ضیائی

    وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں

    عجیب معرض کرب و بلا میں رہتے ہیں

    نمود ذوق و بلوغ ہنر کا ذکر ہی کیا

    یہاں یہ لوگ تو آہ و بکا میں رہتے ہیں

    وداع خلد کے بعد عرصۂ فراق میں ہیں

    بہ قید جسم دیار فنا میں رہتے ہیں

    وہ صبح و شام مری روح میں ہیں جلوہ نما

    دل فگار و الم آشنا میں رہتے ہیں

    حصار ذات میں محبوس ہو کے اہل ہوس

    فریب حاصل بے مدعا میں رہتے ہیں

    بھلا چکے ہیں زمین و زماں کے سب قصے

    سخن طراز ہیں لیکن خلا میں رہتے ہیں

    امیر شہر کی صحبت کے فیض سے اخترؔ

    جناب شیخ اب اونچی ہوا میں رہتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : ajnabii musamo.n ki khushboo (Pg. 105)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY