وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں

افتخار امام صدیقی

وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں

افتخار امام صدیقی

MORE BY افتخار امام صدیقی

    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں

    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں

    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں

    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لب دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے

    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں

    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Junoon (Pg. 112)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY