وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے

آسی غازی پوری

وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے

آسی غازی پوری

MORE BYآسی غازی پوری

    وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے

    نہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہے

    کہاں دامن حسن عاشق سے اٹکا

    گل داغ الفت میں کانٹا نہیں ہے

    کیا ہے وہاں اس نے پیمان فردا

    یہاں ہے وہ شب جس کو فردا نہیں ہے

    وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری

    یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے

    مری زیست کیوں کر نہ ہو جاودانی

    جو مرتا ہے اس پر وہ مرتا نہیں ہے

    وہی خاک اڑانا وہی گردشیں ہیں

    یہ مانا کہ عاشق بگولا نہیں ہے

    گلو گیر ہے ان بھوؤں کا تصور

    گریبان میں اپنے کنٹھا نہیں ہے

    ان آنکھوں کو جب سے بصارت ملی ہے

    سوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے

    مری حسرتیں اس قدر بھر گئی ہیں

    کہ اب تیرے کوچے میں رستا نہیں ہے

    وہ دل کیا جو دلبر کی صورت نہ پکڑے

    وہ مجنوں نہیں ہے جو لیلیٰ نہیں ہے

    کمال ظہور تجلی سے جانا

    جو پنہاں نہیں ہے وہ پیدا نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY